ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلوروشہر میں پانی کی سربراہی میں خامیوں پر بی بی ایم پی اجلاس میں ہنگامہ

بنگلوروشہر میں پانی کی سربراہی میں خامیوں پر بی بی ایم پی اجلاس میں ہنگامہ

Wed, 13 Feb 2019 00:22:45    S.O. News Service

بنگلورو،12؍فروری(ایس او نیوز) شہر میں پانی کی سربراہی کا نظام درہم برہم کرنے پر آج برہت بنگلور مہانگر پالیکے میں کارپوریٹروں نے بی ڈبلیو ایس ایس بی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کو بی بی ایم پی کے ماتحت رکھا جائے تاکہ آب رسانی اور اس سے جڑے تمام منصوبوں کی نگرانی موثر طور پر ہوسکے۔

 شہر میں پانی کی قلت کے مسئلے پر بی بی ایم پی میں بی ڈبلیو ایس ایس بی چیرمین تشار گریناتھ کی نگرانی میں طلب کی گئی خصوصی کونسل میٹنگ کے دوران اراکین نے شہر میں پانی کی سربراہی اور گندے پانی کی نکاسی کے ناقص نظام پر سخت برہمی ظاہر کی۔ان لوگوں نے کہاکہ شہر کے بلنڈور تالاب کی بدحالی کے لئے بی ڈبلیو ایس ایس بی کے افسر راست طور پر ذمہ دار ہیں۔

ان کارپوریٹروں نے کہاکہ بی ڈبلیو ایس ایس بی کی نگرانی میں شہر بنگلور کو کاویری سے دس ٹی ایم سی فیٹ پانی کی فراہمی ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ مجوزہ یتنا ہولے پراجکٹ سے 1.8 ٹی ایم سی پانی کی سربراہی بنگلور کو کرنے کا وعدہ کیاگیا ہے۔ جلد از جلد اس کی تکمیل ہونی چاہئے۔بی بی ایم پی کی حدود میں چند برس قبل شامل ہونے والے 110 دیہاتوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے کارپوریٹروں نے کہاکہ ان علاقوں میں پانی کی صفائی کا کوئی نظام اب تک موجود نہیں ہے۔

اس موقع پر اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حکمران پارٹی کے لیڈر عبدالواجد نے کہاکہ پانی کی قلت کا مسئلہ اس قدر سنگین ہوتا جارہاہے کہ آنے والے دنوں میں لوگوں کو گھروں میں پانی بھی سونے کی طرح چھپا کر رکھنا پڑ سکتاہے ۔ بی ڈبلیو ایس ایس بی کی طرف سے پانی کے رساؤ کوروکنے کے لئے کوئی مناسب کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس رساؤ کو روکنے کے لئے کارروائی جلد از جلد کی جائے۔ شہر میں روزانہ ایک ہزار ملین لیٹر پانی کی سربراہی ہوتی ہے، لیکن اسے ناکافی بتایا جارہاہے، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بہت سے مقامات پر پانی کا رساؤ قطیر مقدار میں ہوتا ہے، بی ڈبلیو ایس ایس بی اور بی بی ایم پی کو چاہئے کہ آپسی تال میل کے ذریعے پانی کے رساؤ کو روکنے کے لئے قدم اٹھائیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب شہریان بنگلور کو گندہ پانی صاف کرکے پینے کی نوبت آجائے۔

انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے پینے کے پانی کی سربراہی کے لئے امرت منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے بی بی ایم پی اور بی ڈبلیو ایس ایس بی کو بھی استفادہ کرناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ بہت جلد لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی انتخابی ضابطۂ اخلاق لاگو ہوجائے گا۔ اس سے پہلے جن علاقوں میں پانی کا انتظام نہیں ہے وہاں ٹینکروں کے ذریعے پانی انتخابی ضابطے کے دوران بھی فراہم کرنے کے لئے احکامات جاری کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ شہر کے تالابوں میں صنعتوں کا گندہ پانی بہایا نہ جائے اسے یقینی بنانا بی ڈبلیو ایس ایس بی کی ذمہ داری ہے، اس پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔ 


Share: